پاکستان میں آٹا بحران کے ذمہ دار کون؟
پاکستان آج کل کئی مسائل اور بحرانوں میں گھرا ہوا ہے جن میں سے ایک آٹے کی قلت ہے اور یہ مسئلہ ان دنوں میڈیا پر بہت زیادہ زیر بحث ہے۔ تقریبا ہر آدمی موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے اور یہی بیان کرتا نظر آتا ہے کہ یہ مسئلہ حکومت کا اپنا پیدا کردہ ہے۔ وہ عوام کو سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے گویا جتنے منہ اتنی باتیں۔
ملک میں مہنگائی کا طوفان پہلے ہی عوام کو مشکلات میں ڈال چکا ہے مزید اس قلت سے مارکیٹ میں آٹا مہنگا ہونے کی وجہ سے لوگوں کی بنیادی ضرورت روٹی بھی مہنگی ہو کر عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہے۔ اس مہنگائی سے جو طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے وہ تازہ کما کر تازہ کھانے والا دیہاڑی دار طبقہ ہے۔ جس نے دن بھر محنت مزدوری کرکے شام کو اپنے گھر والوں کے لئے آٹا دال کا انتظام کرنا ہوتا ہے۔ اس کی روزانہ کی کمائی میں تو کوئی اضافہ نہیں ہوا لیکن اس کی اشیائے ضرورت روزبروز مہنگی ہوتی جارہی ہیں۔ اس کے لئے اپنے بیوی بچوں کا پیٹ بھرنا بھی دشوار دکھائی دیتا ہے۔ موسم کی سختی اور بیماری سے بچاؤ کے لیے نہ تو وہ گرم کپڑوں کا انتظام کر سکتا ہے اور نہ ہی دوا خرید سکتا ہے۔ یہ خریداری تو بس امیر لوگ ہی کرسکتے ہیں۔
اس بحران سے ہونے والی مہنگائی عوام کا بجٹ بھی خراب کر رہی ہے۔ موسم کی شدت کے باعث بہت سے شہریوں کو گیس پریشر میں کمی کے باعث کھانا پکانے میں کافی دشواری کا سامنا ہے۔ لہذا خوراک کی ضرورت پوری کرنے کے لیے عوام ہوٹلوں کا رخ کر رہی ہے، جہاں ان کو مہنگی روٹی ملنے کی شکایت ہے۔ کئی ہوٹلوں پر ملنے والی روٹی کھانے کے قابل بھی نہیں لیکن پھر بھی عوام اس کو خریدنے پر مجبور ہے۔ جب اس کی شکایت ہوٹل مالکان سے کی جاتی ہے تو وہ یہی کہتے ہیں کہ ان کو ناقص آٹا ملتا ہے صحیح آٹے کی قلت ہے۔
اگر ہم قومی اسمبلی کے ایوانوں کا جائزہ لیں تو وہاں اپوزیشن کے بیشتر اراکین اسے حکومت کی ناکامی اور غلط پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، مزید یہ کہ حکمران عوام کو بھوکا مارنا چاہتے ہیں۔ حکومت نے اپنے ملک کی طلب کو بالائے طاق رکھ کر سستے داموں ہمسایا ممالک کو گندم بیچی اور اب مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہو رہی ہے۔ اس کے برعکس اگر حکومت کے کسی وزیر سے اس مسئلے کے بابت دریافت کیا جائے تو وہ یہی کہے گا کہ یہ اپوزیشن کی طرف سے مصنوعی قلت پیدا کی گئی ہے تاکہ ان کو ناکام کیا جاسکے۔ ملک میں گندم کی کوئی قلت نہیں ہے اور ہمارے ملک میں اب بھی وافر مقدار میں گندم موجود ہے۔
اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ عوام آج سے پہلے بھی اس جیسے بحرانوں کا سامنا کرچکی ہے۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ آٹے/ گندم کا بحران ملک کے دوسرے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کے دور حکومت میں پیش آیا۔ یہ سراسر مصنوعی بحران تھا جو حکومت مخالف افراد کا پیدا کردہ تھا، جس کا مقصد خواجہ ناظم الدین کو وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانا تھا۔ آخری مرتبہ یہ بحران سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں پیدا ہوا۔ اُس وقت گندم کے ساتھ چینی کا بحران بھی پیدا ہوگیا۔ اتفاق سے موجودہ حکومت کے کئی وزراء اُس وقت کی کابینہ کا حصہ تھے۔ اگر ان وزراء نے پچھلے بحران سے کچھ سبق حاصل کیا ہے تو پھر وہ اپنے ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اگر وہ حالات کو ٹھیک کرنے میں ناکام ہوگئے تو پھر گندم کے بعد چینی کا بحران بھی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔
ہمیں حکومت یا اپوزیشن کے اراکین سے کوئی سروکار نہیں وہ تو ایک دوسرے پر تنقید کا نشتر چلاتے رہتے ہیں، سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس وقت میں ہمیں کون سی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے جس کی بدولت ہم مل کر اس مسئلے کو کم کرسکیں۔ آئیں ہم ان چند امور کو زیر بحث لانے کی کوشش کرتے ہیں جو اس قومی مسئلے کو ختم تو نہیں البتہ کم ضرور کر سکتے ہیں۔
پہلے تو ہم اپنے گھروں اور ہوٹلوں میں اناج اور دانوں کو کیڑے مکوڑوں اور چوہوں سے محفوظ رکھنے کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔ اس کے بعد آٹے اور روٹی کو اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کریں۔ ضرورت سے زائد روٹی نہ پکائیں۔ ہوٹلوں اور دوسری جگہوں پر نان بائی کا کام کرنے والے تجربہ کار ہوں تاکہ روٹی پکاتے وقت ضائع نہ ہو۔ روٹی کا معیار اور قیمت متعین کی جائے تاکہ عوام سستی اور معیاری روٹی خرید سکے اور دہاڑی دار طبقہ بھی پیٹ بھر کر روٹی کھا سکے۔
کسان سے گندم خریدتے وقت اسے ہر قسم کی سہولت اور گندم کی اچھی اور پوری قیمت دی جائے تاکہ وہ اپنی تمام گندم حکومت کو دے سکے۔ سرکاری سطح پر گندم کو ذخیرہ کرنے والی جگہوں کی حفاظت کی جائے تاکہ یہ ذخائر خراب ہونے سے محفوظ رہیں اور آئندہ ہمیں ایسی قلت کا سامنا نہ ہو۔ گندم کی بین الاضلاعی اور بین الصوبائی غیرقانونی اسمگلنگ کو روکا جائے۔
جب کوئی نااہل وزیر کسی اہم وزارت پر فائز ہوجائے اور خود کرپشن کرنے لگ جائے تو ایسے میں ان کے ماتحت عملہ کس طرح ایمانداری کی مثال بن سکتا ہے، وہ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہے گا۔ کیونکہ اس کو یقین ہے کہ اس کا حکمران بھی ایسے کاموں میں ملوث ہے، لہٰذا اسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ایسے حالات میں احتساب کا عمل شفاف ہونا ضروری ہے ورنہ ایسے واقعات ہوتے رہیں گے اور ملکِ پاکستان ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف چلا جائے گا۔
ہم امید کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ جلد از جلد حل ہو جائے اور عوام اس پریشانی سے نکل کر ملک کی تعمیر و ترقی کے کاموں پر لگ جائے۔ ہمارے ملک کو آئندہ ایسا کوئی مسئلہ پیش نہ آئے اور ملکِ پاکستان دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتے ہوئے ایک مضبوط اور طاقتور ملک بن جائے۔ آمین
حالیہ تبصرے